Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
37 - 46
	
	بمجبوری رہ جانے کی قید حدیثِ ابن صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ثابت کہ ربّ العزت جَلَّ وَعَلا روزِ قیامت مدیون (قرض دار) سے پوچھے گا: تو نے کاہے میں  یہ دَین لیا اور لوگوں  کا حق ضائع کیا؟ عرض کرے گا: اے رب میرے! تو جانتا ہے کہ میرے اپنے کھانے پینے پہننے ضائع کر دینے کے سبب وہ دَین نہ رہ گیا بلکہ 
أتی علی یَديّ إمّا حرق وإمّا سرق وإمّا وضیعۃ۔ 
آگ لگ گئی یا چوری ہوگئی یا تجارت میں  ٹوٹا پڑا، یوں  رہ گیا۔
	 مولیٰ عزوجل فرمائے گا: 
صدق عبدي، فأنا أحقّ من قضی عنک۔(1)
میرا بندہ سچ کہتا ہے سب سے زیادہ میں  .4مستحق ہوں  کہ تیری طرف سے ادا فرما دوں 
	پھر مولیٰ سبحانہ وتعالیٰ کوئی چیز منگا کر اُس کے پلّۂ میزان میں  رکھ دے گا کہ نیکیاں  بُرائیوں  پرغالب آجائیں گی اور وہ بندہ رحمتِ الٰہی کے فضل سے داخلِ جنت ہوگا۔
	پنجم: اولیاءے کرام صوفیۂ صِدْق اربابِ معرفت (اللہ عزوجل کی سچی معرفت رکھنے والے اللہ عزوجل کے نیک اور پرہیز گار بندے) قُدِّسَتْ أسرارُہم وَنَفَعَنَا اللہُ بِبَرکاتِہم في الدنیا والآخرۃ (ان کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں  دنیا اور آخرت میں  ان کی برکتوں  سے فائدہ پہنچائے۔ ت) کہ بنصِّ قطعیِ قرآن (قرآن پاک کے قطعی حکم کے مطابق) روزِ قیامت ہر خوف وغم سے محفوظ وسلامت ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)  ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، حدیث عبد الرحمن بن أبي بکر، الحدیث: ۱۷۰۸، ج۱، ص۴۲۰۔(1)  پ۱۱، یونس: ۶۲۔