حدیثِ ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لفظ ’’مستدرک‘‘ میں یہ ہیں : حضور اقدس صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ فرماتے ہیں :
((من تداین بدین وفي نفسہ وفاؤہ، ثمّ مات تجاوز اللہ عنہ وأرضی غریمہ بما شاء))۔(1)
جس نے کوئی معاملۂ دَین کیا اور دل میں ادا کی نیت رکھتا تھا پھر موت آگئی اللہ عزوجل اس سے در گزر فرمائے گا اور دائن کو جس طرح چاہے راضی کردے گا۔
نیک وجائز کی قید حدیث ِعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ظاہر کہ اُس میں ضرورتِ جہاد وضرورت ِتجہیز وتکفینِ مسلمان وضرورتِ نکاح کو ذکر فرمایا بلکہ بخاری ’’تاریخ‘‘ اور ابن ماجہ ’’سنن‘‘ اور حاکم ’’مستدرک‘‘ میں راوی حضور سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
((إنّ اللہ تعالی مع الدائن حتی یقضي دینہ ما لم یکن دینہ فیما یکرہ اللہ))۔(2)
بیشک اللہ تعالیٰ قرضدار کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اپنا قرض ادا کرے جب تک کہ اُس کا دَین اللہ تعالیٰ کے ناپسند کام میں نہ ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’المستدرک‘‘، کتاب البیوع، باب من تداین بدین۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۲۵۳، ج۲، ص۳۱۹۔
(2) ’’المستدرک‘‘، کتاب البیوع، باب من تداین بدین۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۲۵۲، ج۲، ص۳۱۹، ملخصًا۔