Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
35 - 46
	 چہارم: مدیون (قرض دار) جس نے بحاجتِ شرعیہ (شرعی ضرورت کی وجہ سے) کسی نیک جائز کام کیلئے دَین (قرض) لیا اور اپنی چلتی ادا  میں  گئی نہ کی (استطاعت کے باوجود جان بوجھ کر ٹال مٹول نہ کی)، نہ کبھی تاخیرِ ناروا، روا رکھی (نہ کبھی بلا وجہ تاخیر کی) بلکہ ہمیشہ سچے دل سے اَدا پر آمادہ اور تا حدِ قدرت (حتی المقدور) اُس کی فکر کرتا رہا پھر بمجبوری ادا نہ ہو سکا اور موت آگئی تو مولیٰ عزوجل اُس کیلئے اس دَین سے درگزر فرمائے گا اور روزِ قیامت اپنے خزانۂ قدرت سے ادا فرما کر دائن (قرض دینے والے) کو راضی کر دے گا اس کے لئے یہ وعدہ خاص اسی دَین کے واسطے ہے نہ کہ تمام حقوق العباد کیلئے۔ 
	احادیث: احمد وبخاری وابن ماجہ حضرت ابو ہریرہ اورطبرانی ’’معجم کبیر‘‘ میں  بسندِ صحیح حضرت میمون کردی اور حاکم ’’مستدرک ‘‘اور طبرانی ’’کبیر‘‘ میں  حضرت ابو امامہ باہلی اور احمد وبزار وطبرانی وابو نعیم بسندِ حسن حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق اور ابن ماجہ وبزار حضرت عبد اللہ بن عمرو اور بیہقی مرسلاً قاسم مولائے حضرت امیر معاویہ (یعنی: حضرت امیر معاویہ کے آزاد کردہ غلام قاسم) رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے راوی واللفظ لمیمون رضي اللہ تعالی عنہ (اور حضرت میمون کردی سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں ):
قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلّم: ((من أدان دَینًا ینوي قضاء ہ أدّاہ اللہ عنہ یوم القیامۃ))۔(1)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو کسی دَین کا معاملہ کرے کہ اُس کے ادا کی نیت رکھتا ہو اللہ عزوجل اُس کی طرف سے روزِ قیامت ادا فرما ئے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)  ’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث: ۱۰۴۹، ج۲۳، ص۴۳۲۔
و’’کنز العمال‘‘، کتاب الدین والسلم، الحدیث: ۱۵۴۲۳، ج۶، ص۹۱۔