Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
34 - 46
((لو أنّ صاحب بدعۃ مکذّبًا بالقدر قتل مظلومًا صابرًا محتسبًا بین الرکن والمقام لم ینظر اللہ في شيء من أمرہ حتی یدخلہ جہنم))۔
رواہ أبو الفَرَج في ’’العلل‘‘ من طریق کثیر بن سلیم نا أنس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فذکرہ(1)۔
 اگر کوئی بدمذہب، تقدیرِ ہر خیر وشر کا منکر، خاص حجر اسود ومقامِ ابراہیمعلیہ الصلاۃ والسلام کے درمیان محض مظلوم وصابر مارا جائے اور وہ اپنے اس قتل میں  ثوابِ اِلٰہی ملنے کی نیت بھی رکھے تاہم اللہ عزوجل اُس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے یہاں تک کہ اسے جہنَّم میں  داخل کرے، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
(ابو الفرج نے ’’العلل‘‘ میں  کثیر بن سلیم سے اور انہوں  نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔ ت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
=ہے لہٰذا ہم نے جویہ کہا ہے کہ شہید صبر کے بھی حقوق اللہ اورحقوق العباد سب معاف ہوجاتے ہیں تواس میں کوئی حرج کی بات نہیں، کیونکہ حدیث مبارکہ میں شہیدِ بحر کے متعلق بھی صراحتا ًیہ بیان کیاگیا ہے کہ اس کے تما م حقوق معاف ہوجاتے ہیں،خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یاحقوق العباد، حالانکہ شہیدِ صبر مجبوروبے کس ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عفو وکرم کا شہیدِ بحر سے زیادہ مستحق ہوتاہے تو شہیدِ صبرکے بدرجۂ اَولیٰ تمام حقوق معاف ہونے چاہئیں۔
(1)   ’’العلل المتناہیۃ‘‘، باب دخول المبتدع النار، الحدیث: ۲۱۵، ج۱، ص۱۴۷۔