Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
33 - 46
قال المناوي في ’’التیسیر‘‘: ظاہرہ وإن کان المقتول عاصیًا ومات بلا توبۃ ففیہ ردّ علی الخوارج والمعتزلۃ اہـ۔(1)
ورأیتني کتبتُ علی ھامشہ ما نصّہ: أقول: بل لا محمل لہ سواہ فإنّہ إن لم یکن عاصیًا لم یمرّ القتل بذنب، وإن کان تاب فکذلک؛ فإنّ التاءب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔
علامہ مناوی نے ’’تیسیر‘‘ میں  فرمایا: اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ اگر چہ مقتول گنہگار ہو اور بغیر توبہ مرجائے پس اس میں  خارجیوں  اور معتزلہ کا ردّہے اھ۔
مجھے یاد ہے کہ میں  نے اس کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں  کہتاہوں : بلکہ اس کے علاوہ اس کا اور کوئی محمل نہیں  اس لئے کہ اگر مقتول گنہگار نہ ہو تو پھر قتل کا گناہ پر گزر نہ ہوگا(2) اور اگر اس نے توبہ کر لی تو پھر بھی یہی حکم ہے اس لئے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے کہ جس کا کوئی گناہ ہی نہیں۔ (ت)
	احادیث مطلق ہیں  اور مخصِّص مفقود وحَدِّثْ عَنِ الْبَحْرِ وَلاَ حَرَجَ(3) (سمندر کے جُود وسخا کے بارے میں  جو چاہو بیان کرو اس میں  کوئی حرج نہیں ) اور ہم نے سُنّی المذہب کی تخصیص (قید) اس لئے کی کہ حدیث میں  ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)   ’’التیسیر‘‘ شرح ’’الجامع الصغیر‘‘، حرف القاف، تحت الحدیث: ۶۰۹۴، ج۴، ص۵۱۵۔ و’’فیض القدیر‘‘، حرف القاف، تحت الحدیث: ۶۰۹۴، ج۴، ص۶۶۳۔
(2)  یعنی اس قتل (شہادت) سے بھی گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ بغیر توبہ کے مر گیا ہو۔
(3)  یعنی: احادیث مبارکہ میں شہید صبر کے بارے میں مطلقاً یہ بیان کیا گیا ہے کہ قتلِ صبر تمام گناہوںکو مٹادیتا ہے خواہ وہ حق اللہ ہو ںیا حق العبد،اور اس میں کسی خاص گنا ہ کے معاف نہ ہو نے کاذکربھی نہیں=