Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
32 - 46
	سوم: شہید ِصبر یعنی وہ مسلمان سُنّی المذہب صحیح العقیدہ جسے ظالم نے گرفتار کرکے بحالتِ بیکسی ومجبوری قتل کیا، سولی دی، پھانسی دی کہ یہ بوجۂ اَسیری قِتال ومُدَافَعَت پر قادر نہ تھا (یعنی: قیدی ہونے کی وجہ سے دشمن سے لڑنے اور اپنے دفاع کی طاقت نہیں  رکھتا تھا) بخلاف شہید ِجہاد کہ مارتا مرتا ہے۔ اس کی بے کسی وبیدست پائی زیادہ باعثِ رحمتِ اِلہٰی ہوتی ہے کہ حقُّ اللہ وحقُّ العبد کچھ نہیں  رہتا۔(1) إن شاء اللہ تعالی۔
	احادیث: بزار اُم المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بسندِ صحیح راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : 
((قتل الصبر لا یمرّ بذنب إلّا محاہ))۔(2)
قتلِ صبر کسی گناہ پر نہیں  گزرتا مگر یہ کہ اُسے مٹادیتا ہے۔
	نیز بزار ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : 
((قتل الرجل صبرًا کفارۃ لما قبلہ من الذنوب))۔(3)
آدمی کا بر وجہِ صبر مارا جانا تمام گزشتہ گناہوں  کا کفّارہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1) یعنی: شہید صبر پر بے یار ومددگار، مجبور اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ومہربانی زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اللہ عزو جل اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کی گئی کوتاہیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ 
(2)   ’’مجمع الزوائد‘‘، کتاب الحدود والدیات، باب کفارات الذنوب بالقتل، الحدیث: ۱۰۶۰۲، ج۶، ص۴۰۸، (عن ’’البزار‘‘)۔
(3)  المرجع السابق، الحدیث: ۱۰۶۰۱، (عن ’’البزار‘‘)۔