دوم: شہید ِبحر کہ خاص اللہ عزوجل کی رضا چاہنے اور اس کا بول بالا ہونے کیلئے سمندر میں جہاد کرے اور وہاں ڈوب کر شہید ہو، حدیثوں میں آیا کہ مولیٰ عز وجل خود اپنے دستِ قدر ت سے اُس کی روح قبض کرتا اور اپنے تمام حقوق اُسے معاف فرماتا اور بندوں کے سب مطالبے جو اس پر تھے اپنے ذمۂ کرم پر لیتا ہے۔
احادیث: ابن ماجہ ’’سنن‘‘ اور طبرانی ’’معجم کبیر‘‘ میں حضرت ابو امامہ اور ابو نعیم ’’حِلیہ‘‘ میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پھپھی حضرت صفیہ بنت عبد المطلب اور شیرازی ’’کتاب الالقاب‘‘ میں حضرت عبد اللہ ابن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے راوی: واللفظ لأبي أمامۃ رضي اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:((یغفر لشہید البر الذنوب کلّہا إلاّ الدین، ویغفر لشہید البحر الذنوب کلّہا والدین))(1)۔
اَللّٰہم ارزقنا بجاہہ عندک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وبارک آمین!
(حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ت) یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو خشکی میں شہید ہو اُس کے سب گناہ بخشے جاتے ہیں مگر حقوق العباد اور جو دریا میں شہادت پائے اُس کے تمام گناہ وحقوق العباد سب معاف ہو جاتے ہیں۔ (اے اللہ! حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس بلند پایہ رتبہ کے طفیل جو اُن کا تیری بارگاہ میں ہے ہمیں یہ دولت نصیب فرما۔ آمین ت)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’سنن ابن ماجہ‘‘ ، کتاب الجہاد، باب فضل غزو البحر، الحدیث: ۲۷۷۸، ج۳، ص۳۴۹، ملخصًا۔ و’’المعجم الکبیر‘‘، ج۸، ص۱۷۰، الحدیث: ۷۷۱۶۔