Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
30 - 46
اللہ تعالی علیہ وسلم فنصت الناس فقال: ((یا معاشر الناس أتاني جبریل آنفًا فأقرأني من ربّي السلام وقال: إنّ اللہ عزوجل غفر لأہل عرفات وأہل المشعر وضمن عنہم التبعات)) فقام عمر بن الخطاب رضي اللہ تعالی عنہ فقال: یا رسول اللہ ہذا لنا خاصۃ؟ قال: ((ہذا لکم ولمن  أتی من بعدکم إلی یوم القیامۃ)) فقال عمر بن الخطاب: کثر خیر اللہ وطاب(1)۔
کر، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر پکارا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے خاموش ہو جاؤ، لوگ ساکت (خاموش) ہوئے، حضور پُر نور صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا: اے لوگو! ابھی جبریل نے حاضر ہو کر مجھے میرے رب کا سلام وپیام پہنچایا کہ اللہ عزوجل نے عرفات ومشعر الحرام والوں  کی مغفرت فرمائی اور ان کے باہمی حقوق کا خود ضامن ہو گیا۔ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ دولت خاص ہمارے لئے ہے؟ فرمایا: تمہارے لئے اور جو تمہارے بعد قیامت تک آئیں  سب کے لئے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ عزوجل کی خیر کثیر وپاکیزہ ہے، انتہی۔ والحمد للہ رب العالمین۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)  ’’سنن ابن ماجہ‘‘،  کتاب الحج، الحدیث: ۳۰۱۳، ج ۳، ص۴۶۶۔۴۶۷، ’’شعب الإیمان‘‘، فصل في القصاص من المظالم، الحدیث: ۳۴۶، ج۱، ص۳۰۴۔۳۰۵۔و’’الترغیب والترہیب‘‘، الترغیب في الوقوف بعرفۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۷، ج۲، ص۱۳۰-۱۳۱۔