Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
29 - 46
’’ضعفا‘‘ اور ابن عدی ’’کامل‘‘ اور بیہقی ’’سنن کبری‘‘ و ’’شعب الایمان‘‘ و’’کتاب البعث والنشور‘‘ اور ضیاء مقدسی بافادۂ تصحیح ’’مختارہ‘‘ میں  حضرت عباس بن مِرداس اور امام عبد اللہ بن مبارک بسند صحیح اور ابو یعلی وابن منیع بوجہ آخر حضرت انس بن مالک اور ابو نعیم ’’حلیۃ الاولیا‘‘ اور امام ابن جریر طبری ’’تفسیر‘‘ اور حسن بن سفیان ’’مسند‘‘ اور ابن حبان ’’ضعفا‘‘ میں  حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق اعظم اور عبد الرزاق ’’مصنّف‘‘ اور طبرانی ’’معجم کبیر ‘‘میں  حضرت عبادہ بن صامت اور دارقطنی وابن حبان حضرت ابو ہریرہ اور ابن مندہ ’’کتاب الصحابہ ‘‘اور خطیب ’’تلخیص المتشابہ ‘‘میں  حضرت زید جد عبد الرحمن بن عبد اللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بطرق عدیدہ والفاظ کثیرہ ومعانی متقاربہ راوی(1):
وھذا حدیث الإمام عبد اللہ بن المبارک عن سفیان الثوري عن الزبیر بن عدي عن أنس رضي اللہ تعالی عنہ قال: وقف النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعرفات وقد کادت الشمس أن تغرب فقال: ((یا بلال أنصت لي الناس)) فقام بلال فقال: أنصتوا لرسول اللہ صلّی
(یہ حدیث امام عبد اللہ بن مبارک نے امام سفیان ثوری سے انہوں  نے زبیر بن عدی سے اور انہوں  نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے۔ت) یعنی حضور اقدس رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرفات میں  وقوف فرمایا یہاں  تک کہ آفتاب ڈوبنے پر آیا اُس وقت ارشاد ہوا: اے بلال! لوگوں  کو میرے لئے خاموش
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)  یعنی: مذکورہ بالا تمام محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اپنی اپنی کتابوں میں ہم معنی مختلف الفاظ اور کئی سندوں کے ساتھ حدیث روایت کرتے ہیں۔