Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
28 - 46
کہ حج گزرےگناہوں  کو دھوتا ہے آئندہ کیلئے پروانۂ بیقیدی نہیں  ہوتا (یعنی حج آئندہ کے گناہوں  سے آزادی کااجازت نامہ نہیں  ہوتا) بلکہ حجِ مبرور (مقبول حج) کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھا ہو کر پلٹے۔
فإنّا للّٰہ وإنّا إلیہ راجعون ولا حَوْلَ ولا قُوَّۃَ إلا باللہ العليِّ العظیم ۔
(بے شک ہم اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں  اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، گناہوں  سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ بزرگ وبرترکی توفیق کے بغیر کسی میں  نہیں۔ ت ) 
	مسئلۂ حج میں  بحمد اللہ تعالیٰ یہ وہ قولِ فیصل  (یہ وہ فیصلہ کن بات) ہے جسے فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہٗ نے بعد تنقیحِ دلائل ومذاہب واِحاطۂ اَطراف وجوانب اختیار کیا(1) جس سے اقوال ائمۂ کرام میں  توفیق (موافقت) اور دلائل حدیث وکلام میں  تطبیق (مطابقت پیدا) ہوتی ہے اس معرکۃ الآرا مبحث کی نفیس تحقیق  بِعَونِہٖ  تعالی  فقیر غفرا للہ تعالیٰ لہٗ نے بعد وُرُوْدْ اس سوال کے ایک تحریر جدا گانہمیں  لکھی(2) ، یہاں  اس قدر کافی ہے۔  وباللہ التوفیق (اللہ تعالیٰ ہی کے کرم سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)
	احادیث: ابن ماجہ اپنی ’’سنن‘‘ میں  کاملاً اور ابو داؤد مختصراً اور امام عبد اللہ ابن امام احمد ’’زوائد مسند‘‘ اور طبرانی ’’معجم کبیر‘‘ اور ابو یعلی ’’مسند‘‘ اور ابن حبان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1) جسے میں نے علماء کرام کے پیش کردہ تمام دلائل اور ان کے نقطۂ نظر کی تحقیق وتفتیش اور تمام پہلو ؤں کا جائزہ لینے کے بعد اختیار کیا۔ 
(2) یعنی: اللہ تعالی کی مدد سے اس زبر دست بحث کی نہایت عمدہ تحقیق اس سوال کے آنے کے بعد علیحدہ سے تحریر کی۔