یا بندوں کے اس کے ذمہ تھے انھیں ادا یا ادا کی فکر کرتا تو اُمید واثق (قوی امید) ہے کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے تمام حقوق سے مطلقاً در گزر فرمائے یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہا فرائض کہ بجا نہ لایا تھا ان کے مطالبہ پر بھی قلمِ عفو ِاِلٰہی پھر جائے (یعنی اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے) اور حقو ق العباد ودُیون ومظالم مثلاً کسی کا قرض آتا ہو، مال چھینا ہو، بُرا کہا ہو ان سب کو مولیٰ تعالیٰ اپنے ذمۂ کرم پر لے لے، اَصحابِ حُقُوق (حق والوں ) کو روزِ قیامت راضی فرما کر مطالبہ وخُصُومَت (حق کی ادائیگی کے تقاضے اور جھگڑے) سے نجات بخشے، یوہیں اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدرِ قدرت تَدَارُکِ حقوق ادا کر لیا (اپنی طاقت کے مطابق حقوق ادا کر دیئے) یعنی زکوٰۃ دے دی، نماز، روزہ کی قضا ادا کی جس کا جو مطالبہ آتاتھا دے دیا جسے آزار (دُکھ) پہنچا تھا معاف کرا لیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یا معلوم نہیں اُس کی طرف سے تصدُّق (صدقہ) کر دیا، بوجہ ِقلت مُہلت (زندگی کے وفا نہ کرنے کی وجہ سے) جو حق، اللہ عزوجل یا بندہ کا ادا کرتے کرتے رہ گیا اُس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کر دی، غرض جہاں تک طُرُقِ براء ت (حقوق کی ادئیگی کے طریقوں ) پر قدرت ملی، تقصیر (کوتاہی) نہ کی تو اس کیلئے اُمید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہو گئی اور اثمِ مخالفت حج سے دُھل چکا تھا۔(1) ہاں ! اگر بعدِ حج با وصفِ قدرت ان اُمُور میں قاصر رہا(2) تو یہ سب گناہ اَزسرِ نو (دوبارہ) اُس کے سَر ہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادا میں پھر تاخیر وتقصیر، گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے اِزالہ کو کافی نہ ہوگا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) یعنی حقوق العباد کے متعلق قیامت میں سوالات سے بچنے کی یہ صورت ہو گئی نیز حج سے پہلے کے حقوق کی ادائیگی میں جو تقصیر کی تھی اس کا گناہ حجِ مقبول سے مٹ گیا۔
(2) اگر حج ادا کرنے کے بعد حقوق العباد ادا کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود جان بوجھ کر کوتاہی کرتا رہا۔