Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
26 - 46
رواہ أیضًا عن اُمِّ ھانیٔ رضی اللہ تعالی عنھا(1)۔
ایک دوسرے کو معاف کردو اور ثواب دینا میرے ذمہ ہے۔ 
(اسے بھی طبرانی نے سیِّدہ اُمِّ ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ ت) 
	یہ دولتِ کُبریٰ ونعمتِ عظمیٰ کہ أَکْرَمُ الْأَکرَمِین جَلَّتْ عَظَمَتُہٗ اپنے محض کرم وفضل سے اس ذلیل رُوسِیَاہ سراپا گناہ کو بھی عطا فرمائے(2)۔
ع کہ مستحق کرامت گنہگار انند
(گنہگار شرف وبزرگی عطا کئے جانے کے لائق ہیں۔ ت)
	اس وقت کی نظر میں  اس کا جلیل وعدہ جمیل مژدہ صاف صریح بالتصریح یا کالتصریح تصریح پانچ فرقوں  کے لئے وارد ہوا(3):
	اوّل: حاجی کہ پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے، اور اُس میں  لڑائی جھگڑے اور عورتوں  کے سامنے تذکرۂ جماع (صحبت کی باتیں ) اور ہر قسم کے گناہ ونافرمانی سے بچے، اس وقت تک جتنے گناہ کئے تھے بشرطِ قبول (اگر حج قبول ہوگیا) سب معاف ہو جاتے ہیں ، پھر اگر حج کے بعد فوراً مر گیا اتنی مہلت نہ ملی کہ جو حقوق اللہ عزوجل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)   ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد، الحدیث: ۱۳۳۶،ج۱، ص۳۶۶-۳۶۷۔
(2)  یہ عظیم نعمت اور انمول دولت جو ابھی حدیث پاک میں گزری اللہ تبارک وتعالیٰ مجھ خطا کار گنہگار کو بھی عطا فرمائے ۔ 
(3)  اس وقت میری نظر میں پانچ طرح کے لوگ ہیں جن کے لیے حقوق العباد کے معاف ہوجانے کا عظیم وعدہ اور زبر دست خوشخبری وضاحت کے ساتھ حدیث میں وارد ہوئی ہے۔