اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:
((إذا التقی الخلائق یوم القیامۃ، نادی منادٍ: یا أھل الجمع، تتارکوا المظالم بینکم، وثوابکم عليَّ))۔
رواہ الطبراني عن أنس أیضًا رضی اللہ تعالی عنہ بسند حسن(1)۔
جب مخلوق روزِ قیامت بہم (ایک ساتھ) ہوگی ایک منادی رب العزت جل وعلا کی طرف سے ندا کرے گا: اے مجمع والو! آپس کے مظلموں کا تدارُک کر لو (یعنی ایک دوسرے کے حقوق معاف کر دو) اور تمہارا ثواب میرے ذمہ ہے۔
(امام طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند حسن اس کو روایت کیا ہے۔ ت)
اور ایک حدیث میں ہے حضور والا صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
((إن اللہ یجمع الأوّلین والآخرین یوم القیامۃ في صعید واحد، ثم یُنادي مناد من تحت العرش: یا أھل التوحید! إنّ اللہعزوجل قد عفا عنکم، فیقوم النّاسُ فیتعلق بعضھم ببعض في ظلامات، فینادي مُناد: یا أھل التوحید! لیعف بعضکم عن بعض، وعليّ الثوابُ))۔
یعنی بیشک اللہ عزوجل روزِ قیامت سب اگلوں پچھلوں کو ایک زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرِ عرش سے منادی ندا کرے گا: اے توحید والو! مولیٰ تعالیٰ نے تمہیں اپنے حقوق معاف فرمائے لوگ کھڑے ہو کر آپس کے (دنیاوی) مظلموں میں ایک دوسرے سے لپٹیں گے منادی پکارے گا: اے توحید والو!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد، الحدیث: ۵۱۴۴، ج۴، ص۴۱۔