صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالبکاء، ثم قال: إنّ ذاک الیوم عظیم یحتاج الناس أن یُحْمَلََ عنھم من أوزارِھِمْ، فقال اللہ للطّالب: ارفع بَصَرکَ فانظر، فرفع فقال: یا ربِّ أرَی مدائنَ من ذھبٍ وقصورًا من ذھبٍ مُکَلَّلَۃً باللُّؤلُؤ لِأيِّ نبيّ ھذا أو لِأيِّ صدیق ھذا أو لأيِّ شھید ھذا؟ قال: لِمَنْ أعطی الثَّمَن، قال:یا ربِّ ومن یملک ذلک؟ قال: أنت تملکہ، قال: بماذا؟ قال: بعفوک عن أخیک، قال: یا ربِّ فإنّي قد عفوتُ عنہ، قال اللہ تعالی: فخُذْ بیدِ أخیْکَ فأدْخِلْہُ الجنَّۃ۔فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عند ذلک: ((اتقوا اللہ وأصْلِحُوا ذات بینکم فإنّ اللہ یُصلِح بین المسلمین یوم القیامۃ))۔
تو سب ہو چکیں۔ مُدَّعِی نے عرض کی: اے رب میرے! تو میرے گناہ وہ اٹھالے۔ یہ فرماکر حضور رحمت ِعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی آنکھیں گریہ سے بہہ نکلیں (یعنی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے)، پھر فرمایا: بیشک وہ دن بڑا سخت ہے لوگ اس کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا کچھ بوجھ اور لوگ اٹھائیں۔ مولیٰ عزوجل نے مُدَّعِی سے فرمایا: نظر اٹھا کر دیکھ۔ اس نے نگاہ اٹھائی کہا: اے رب میرے! میں کچھ شہر دیکھتا ہوں سونے کے اور محل کے محل سونے کے سراپا موتیوں سے جَڑے ہوئے یہ کس نبی کے ہیں ، یا کس صدیق، یا کس شہید کے؟ مولیٰ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: اُس کے ہیں جو قیمت دے۔ کہا: اے رب میرے! بھلا ان کی قیمت کون دے سکتا ہے؟ فرمایا: تو۔ عرض کی: کیونکر؟