Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
23 - 46
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالبکاء، ثم قال: إنّ ذاک الیوم عظیم یحتاج الناس أن یُحْمَلََ عنھم من أوزارِھِمْ، فقال اللہ للطّالب: ارفع  بَصَرکَ فانظر، فرفع فقال: یا ربِّ أرَی مدائنَ من ذھبٍ وقصورًا من ذھبٍ مُکَلَّلَۃً باللُّؤلُؤ  لِأيِّ نبيّ ھذا أو لِأيِّ  صدیق ھذا أو لأيِّ شھید ھذا؟ قال: لِمَنْ أعطی الثَّمَن، قال:یا ربِّ ومن یملک ذلک؟ قال: أنت تملکہ، قال: بماذا؟ قال: بعفوک عن أخیک، قال: یا ربِّ فإنّي قد عفوتُ عنہ،  قال اللہ تعالی: فخُذْ بیدِ أخیْکَ فأدْخِلْہُ  الجنَّۃ۔فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عند ذلک: ((اتقوا اللہ وأصْلِحُوا ذات بینکم فإنّ اللہ یُصلِح بین المسلمین یوم القیامۃ))۔ 
تو سب ہو چکیں۔ مُدَّعِی نے عرض کی: اے رب میرے! تو میرے گناہ وہ اٹھالے۔ یہ فرماکر حضور رحمت ِعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی آنکھیں  گریہ سے بہہ نکلیں  (یعنی مبارک آنکھوں  سے  آنسو رواں  ہو گئے)، پھر فرمایا: بیشک وہ دن بڑا سخت ہے لوگ اس کے محتاج ہوں  گے کہ ان کے گناہوں  کا کچھ بوجھ اور لوگ اٹھائیں۔ مولیٰ عزوجل نے مُدَّعِی سے فرمایا: نظر اٹھا کر دیکھ۔ اس نے نگاہ اٹھائی کہا: اے رب میرے! میں  کچھ شہر دیکھتا ہوں  سونے کے اور محل کے محل سونے کے سراپا موتیوں  سے جَڑے ہوئے یہ کس نبی کے ہیں ، یا کس صدیق، یا کس شہید کے؟ مولیٰ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: اُس کے ہیں  جو قیمت دے۔ کہا: اے رب میرے! بھلا ان کی قیمت کون  دے سکتا ہے؟ فرمایا:  تو۔ عرض کی: کیونکر؟