Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
22 - 46
فلِلّٰہِ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضی۔
پس اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے ایسی حمد وثنا جو بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت ہے جیساکہ ہمارے رب کی پسند اور رِضاہے ۔ (ت) 
	حدیث میں  ہے: 
بینا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جالس إذ رأیناہ ضحک  حتی بدت ثنایاہ، فقال لہ عمر: ما أضحکک یا رسول اللہ بأبي أنت وأمّي؟
یعنی: ایک دن حضور پر نور سید العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف فرما تھے  ناگاہ (اچانک) خندہ فرمایا (مسکرائے) کہ اگلے دندانِ مبارک ظاہر ہوئے، امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں  باپ حضور پر قربان! کس بات پر حضور کو ہنسی آئی؟ 
	ارشاد فرمایا:  ((رجلان من أمتي جَثَیا بین یَدَي ربِّ العِزَّۃِ فقال أحدھما: یا رَبِّ خُذْ لي مَظْلِمَتِيْ من أخي، فقال اللہ تَعَالی للطّالب: کیف تصنعُ بأَخیکَ ولم  یبق من حسناتہ شيء قال: یا ربّ فیحمل من أوزاري، وفاضت عَیْنَا رسول اللہ
دو مرد میری امت سے رب العزت جل جلالہ کے حضور زانوؤں  پر کھڑے ہوئے، ایک نے عرض کی: اے رب میرے! میرے اس بھا ئی نے جو ظلم مجھ پر کیا ہے اس کا عوض میرے لئے لے۔ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ کیا کریگا اس کی نیکیاں