Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
21 - 46
روز ِقیامت لپٹیں  گے کہ ہمارا دَین دے وہ کہے گا میں  تمہارا بچہ ہوں ، یعنی شاید رحم کریں ، وہ تمنا کرینگے کاش اور زیادہ ہوتا!۔
الطبراني(1) عن ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول: ((إنّہ یکون للوالدین علی ولدھما دین فإذا کان یوم القیامۃ یتعلقان بہ، فیقول: أنا ولدکما، فَیَوَدَّانِ أو یَتَمَنَّیَانِ لو کان أکثرَ من ذلک))۔
’’طبرانی ‘‘ میں  ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں  نے کہا کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ والدین کا بیٹے پر دَین ہوگا قیامت کے روز والدین بیٹے پر لپٹیں  گے تو بیٹا کہے گا میں  تمہارا بیٹا ہوں  تو والدین کو حق دلایا جائے گا اور تمنا کریں  گے کاش! ہمارا حق اور زائد ہوتا۔ (ت)
	جب ماں  باپ کا یہ حال تو اوروں  سے امید خام خیال (بیکار)، ہاں ! کریم ورحیم مالک ومَوْلیٰ جل جلالہٗ وتبارَکَ وتعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو یوں  کرے گا کہ حق والے کو بے بَہا قُصورِ جنت ( جنت کے انمول محلّات) معاوضہ میں  عطا فرما کر َعفوِ حق (حق معاف کرنے) پر راضی کر دے گا ایک کرشمۂ کرم میں  دونوں  کا بھلا ہوگا نہ اس کی حسنات (نیکیاں ) اُسے دی گئیں  نہ اُس کی سیئات (برائیاں ) اِس کے سر رکھی گئیں  نہ اُس کا حق ضائع ہونے پایا بلکہ حق سے ہزاروں  درجے بہتر ا فضل پایا رحمتِ حق کی بندہ نوازی ظالم ناجی، مظلوم راضی۔(2) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)   ’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث: ۱۰۵۲۶، ج۱۰، ص۲۱۹۔
(2)  یعنی: اگر اللہ تبارک و تعالیٰ چاہے گا تو ایسا کرم ہوگا کہ ظالم نجات پائے گا اور مظلوم بھی راضی ہو جائے گا۔