Brailvi Books

حقوق العباد کیسے معاف ہوں
20 - 46
غرض حقوق العباد بے اُن کی معافی کے معاف نہ ہوں  گے (جب تک بندے اپنے حقوق معاف نہیں  کریں  گے اس وقت تک حق تلفی کرنے والے کومعافی نہیں  ملے گی) ولہٰذا مروی ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الغیبۃ أشدّ من الزنا)) ۔
غیبت زنا سے سخت تر ہے۔
	کسی نے عرض کی: یہ کیونکر؟ فرمایا:  ((الرجل یزني ثم یتوب، فیتوب اللہ علیہ، وإنّ صاحب الغیبۃ لا یغفر لہ حتی یغفر لہ صاحبہ))۔
رواہ ابن أبي الدنیا في’’ذم الغیبۃ‘‘ والطبراني في ’’الأوسط‘‘(1) عن جابر بن عبد اللہ وأبي سعید الخدري، والبیھقي عنھما وعن أنس رضي اللہ تعالی عنھم۔
زانی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور غیبت والے کی مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی ہے۔ 
(ابن ابی الدنیا نے ’’ذم الغیبۃ‘‘ میں  اور امام طبرانی نے ’’الاوسط‘‘میں  حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید خدری سے اور امام بیہقی نے ان دونوں  کے علاوہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی اس کی روایت فرمائی۔ت)
 	پھر یہاں  معاف کرا لینا سہل (آسان) ہے قیامت کے دن اس کی اُمید مشکل کہ وہاں  ہر شخص اپنے اپنے حال میں  گرفتار، نیکیوں  کا طلبگار، برائیوں  سے بیزار ہوگا۔ پَرائی نیکیاں  اپنے ہاتھ آتے اپنی بُرائیاں  اس(دوسرے) کے سَر جاتے کسے بُری معلوم ہوتی ہیں ! یہاں  تک کہ حدیث میں  آیا ہے کہ ماں  باپ کا بیٹے پر کچھ دَین آتا ہو گا اسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 (1)  ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد،  الحدیث: ۶۵۹۰، ج۵، ص۶۳۔