یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ((لتُؤدُّنَّ الحقوقَ إلی أھلہا یوم القیامۃ، حتی یُقاد للشاۃ الجَلْحَاء من الشاۃ القرناء تَنطِحُہا))۔رواہ الأئمۃ أحمد في ’’المسند‘‘(1)
ومسلم في ’’صحیحہ‘‘ والبخاري في ’’الأدب المفرد‘‘، والترمذي في ’’الجامع‘‘ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ۔
بیشک روز قیامت تمہیں اہل حقوق کو ان کے حق ادا کرنے ہوں گے یہاں تک کہ مُنڈی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا کہ اسے سینگ مارے۔
(ائمہ کرام نے اس کو روایت کیا مثلاً امام احمد نے ’’مسند ‘‘میں ، امام مسلم نے ’’صحیح مسلم‘‘ میں ، ا مام بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں ، اور امام ترمذی نے ’’جامع ‘‘میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ت)
ایک روایت میں فرمایا: ((حتی الذرۃ من الذرۃ))۔ رواہ الإمام أحمد بسند صحیح۔(2)
یہاں تک کہ چیونٹی سے چیونٹی کا عوض لیا جائیگا ۔(اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت)
پھر وہاں روپے اشرفیاں تو ہیں نہیں کہ معاوضۂ حق (حق کے بدلے) میں دی جائیں۔ طریقۂ اَدا یہ ہوگا کہ اِس کی نیکیاں صاحبِ حق کو دی جائیں گی اگر ادا ہو گیا غنیمت، ورنہ اُس کے گناہ اس پر رکھے جائیں گے یہاں تک کہ ترازوئے عدل میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث: ۸۰۰۲، ج۳، ص۱۶۳۔
(2) ’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث: ۸۷۶۴، ج۳، ص۲۸۹۔