شیئًا، ودیوان لا یترک اللہ منہ شیئًا، فأمّا الدیوان الذي لا یغفر اللہ منہ شیئًا: فالإشراک باللہ عزّ وجَلّ، وأمّا الدیوان الذي لا یعبأ اللہ بہ شیئًا: فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربّہ من صوم یوم ترکہ أو صلاۃ ترکہا، فإنّ اللہ تعالی یغفر ذلک ویتجاوز إن شائ، وأمّا الدیوان الذي لا یترک اللہ منہ شیئًا: فمظالم العباد بینھم القصاص لا محالۃ))۔
رواہ الإمام أحمد في ’’المسند‘‘ والحاکم في ’’المستدرک‘‘ عن أمّ المؤمنین الصدّیقۃ رضي اللہ تعالی عنھا۔(1)
اللہ تعالیٰ کو کچھ پروا نہیں اور ایک دفتر میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اصلاً معافی کی جگہ نہیں وہ تو کفر ہے کہ کسی طرح نہ بخشا جائیگا اور وہ دفتر جس کی اللہ عزوجل کو کچھ پروا نہیں وہ بندے کا گناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے معاف کر دے اور در گزر فرمائے اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہونا ہے۔
(امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں اور حاکم نے ’’مستدرک‘‘ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کی روایت فرمائی۔ت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1) ’’المستدرک‘‘، کتاب الأہوال، باب الدواوین ثلاثۃ، الحدیث: ۸۷۵۷، ج۵، ص۷۹۴-۷۹۵۔ و’’المسند‘‘ لأحمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث: ۲۶۰۹۰، ج۱۰، ص۸۲۔