Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
54 - 55
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو ؟
صفحۂ  دہر سے باطل کو مٹایا کس نے ؟ 
نوعِ انساں کو غلامی سے چُھڑایا کس نے ؟ 
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے ؟ 
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے ؟ 
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو ؟ 
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو !
منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک 
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک 
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک 
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں ! 
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟