Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
53 - 55
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہدائے کرام خواب میں  آ کر زندوں  کو اپنے احوال و کیفیات سے مطلع کرتے رہتے ہیں  کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کو یہ قدرت عطا فرمائی ہے کہ وہ خواب یا بیداری میں  اپنی قبروں  سے نکل کر زندوں  سے ملاقات اور گفتگو کر سکتے ہیں۔ 
اب غور فرمائیے کہ جب شہیدوں  کا یہ حال ہے اور ان کی جسمانی حیات کی یہ شان ہے تو پھر حضرات انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خاص کر حضور سید الانبیاء  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی جسمانی حیات اور ان کے تصرفات اور ان کے اختیار واقتدار کا کیا عالم ہو گا۔ (کراماتِ صحابہ، ص۱۱۸ تا ۱۲۰)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
یارانِ نبی کا وصف کس سے ہو ادا
ایک ایک ہے ان میں ناظمِ نظمِ ہدی
پائے کوئی کیوں کر اس رباعی کا جواب
 اے اہلِ سخن جس کا مصنف ہو خدا
(ذوقِ نعت)