Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
52 - 55
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اپنا خواب بیان کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دس ہزار درہم میں  ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مکان خرید کر اس میں  قبر کھودی اور حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مقدس لاش کو پرانی قبر میں  سے نکال کر اس قبر میں  دفن کر دیا۔ کافی مدت گزر جانے کے باوجود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مقدس جسم سلامت اور بالکل ہی تروتازہ تھا۔ (اسد الغابۃ، طلحۃ بن عبید اللہ التیمی، ج۳، ص۸۷)
پیارے اسلامی بھائیو! یہ واقعہ ذکر کرنے کے بعد شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں  کہ غور فرمائیے کہ کچی قبر جو پانی میں  ڈوبی رہتی تھی ایک مدت گزر جانے کے باوجود ایک ولی اور شہید کی لاش خراب نہیں  ہوئی تو حضرات انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام خصوصاً حضور سید الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مقدس جسم کو قبر کی مٹی بھلا کس طرح خراب کرسکتی ہے ؟یہی وجہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاء (مشکوۃ، ص۱۲۱) 
(یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین پر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے جسموں  کو کھانا حرام فرما دیا ہے)
اسی طرح اس روایت سے اس مسئلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ شہداءے کرام اپنے لوازم حیات کے ساتھ اپنی اپنی قبروں  میں  زندہ ہیں  کیونکہ اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو قبر میں  پانی بھر جانے سے ان کو کیا تکلیف ہوتی؟ اسی طرح اس روایت