میں فرمایا: ’’اے کاش! یہ دن دیکھنے سے بیس سال پہلے ہی میں اس دنیا سے چلا جاتا۔‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم ۲۹۸۳ طلحۃ بن عبید اللہ، ج۲۵، ص۱۱۵۔ المعجم الکبیر، الحدیث:۲۰۲، ج۱، ص۱۱۳)
قاتل کو جہنم کی خبر:
طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قاتل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: ’’اسے جہنم کی خبر دے دو۔‘‘ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم۴۷طلحۃ بن عبیداللہ، ج۳، ص۱۶۹)
ایک قبر سے دوسری قبر میں :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 346 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ کراماتِ صحابہ ‘‘ صَفْحَہ 118 تا 120 پر ہے کہ شہادت کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بصرہ کے قریب دفن کر دیا گیا مگر جس مقام پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قبر شریف بنی وہ نشیب میں تھا اس لئے قبر مبارک کبھی کبھی پانی میں ڈوب جاتی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو بار بار متواتر خواب میں آ کر اپنی قبر بدلنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس