سفرِ آخرت
جنگ جمل کے دوران گیارہ جمادی الاخریٰ ۳۶ھ (بروز جمعرات) مروان بن حکم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ٹانگ میں ایک تیر مارا جس سے خون کی رگ بری طرح کٹ گئی، جب اس کا منہ بند کرتے تو ٹانگ پھول جاتی اور اگر چھوڑتے تو کثرت سے خون بہنے لگتا۔ پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: اس کو ایسے ہی چھوڑ دو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے تیروں میں سے ایک تیر ہے یعنی میری شہادت اسی کے ساتھ مقدر کی گئی ہے۔ بس اسی کے سبب 60 یا 64 سال کی عمر میں آپ اس وطنِ اقامت کو چھوڑ کر وطنِ اصلی میں جا بسے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، طلحۃ بن عبید اللہ التیمی، ج۲، ص۳۲۰۔ ملتقطاً)
سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا خراجِ تحسین:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو جب حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کی خبر ملی تو فوراً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جسدِ خاکی کے پاس تشریف لائے، سواری سے اتر کر حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس بیٹھ گئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نورانی چہرے اور داڑھی مبارک سے گرد وغبار صاف کر کے انتہائی درد بھرے انداز