کے شب و روز کے معمولات لوگوں کو سنتوں پر عمل کی ترغیب دلایا کرتے۔ ایسے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناحادیث بیان کرنے میں بڑے محتاط تھے محض اس ڈر سے کہ بیان کرنے میں کچھ کمی بیشی نہ ہو جائے۔ اگر انہیں ذرہ برابر شک ہوتا کہ یہ الفاظ سرورِ دو جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نہیں ہیں تو وہ کبھی بیان نہ کرتے۔ چنانچہ،
پیرانہ سالی میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کہ اگر مجھے غلطی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور احادیث بیان کرتا۔ (سنن الدارمی، مقدمہ، باب اتقاء الحدیث، الحدیث:۲۳۵، ج۱، ص۸۸)
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بھی ان جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم احادیث روایت کی ہیں۔ چنانچہ،
حضرت علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۸۵۵ھ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلق شرح ابو داؤد میں فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کل اڑتیس {38} احادیثِ مبارکہ مروی ہیں ان میں سے تین احادیث بخاری شریف میں اور چار مسلم شریف میں ہیں۔
(شرح ابی داؤد للعینی، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلی، الحدیث:۶۶۶، ج۳، ص۲۴۲)