اس کا نماز پڑھانا جائز نہیں۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۲۱۰، ج۱، ص۱۱۵)
پیارے اسلامی بھائیو! صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی عاجزی و انکساری پر قربان جایئے! حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ اس لئے نہیں فرمایا تھا کہ آپ کو لوگوں کے اعتراض کا خدشہ تھا بلکہ آپ نے تو احتیاطاً دریافت فرمایا تھا کہ کسی کو میرے نماز پڑھانے پر اعتراض تو نہیں ؟ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ جس کو محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جنت کی خوشخبری دی ہو لوگ اس کی اقتدا کو اچھا نہ سمجھیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنتقویٰ و پرہیز گاری کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور وہ ہمیشہ کوشش کرتے کہ سنت کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگیاں قران و سنت کی ترویج واشاعت میں صرف کر دیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کی کچھ پرواہ نہ کی۔ چنانچہ،
روایتِ حدیث میں احتیاط
بعض صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْننے روایتِ حدیث کو قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت کاذریعہ بنایا اور بعض نے اپنی زندگیوں کو ہی اس طرح سرکار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کی اتباع کے سانچے میں ڈھال دیا کہ ان