شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا: ’’وہ کہاں ہے جس نے نذر پوری کرنے والوں کے متعلق پوچھا تھا؟‘‘ اعرابی نے فوراً عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میں یہیں ہوں۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے (حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف دیکھ کر) ارشاد فرمایا: یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نذر (منت) کو پورا کیا۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب با ب، مناقب طلحۃ بن عبید اللہ، الحدیث:۳۷۶۳، ج۵، ص۴۱۴)
عاجزی و انکساری
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ چند لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سلام کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’میں آگے بڑھنے سے پہلے تم سے اجازت لینا بھول گیا تھا کیا تم میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو؟‘‘ سب نے عرض کی: ’’جی ہاں ! ہم سب راضی ہیں اور حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حواری (دوست) کی اقتدا میں نماز پڑھنے کو کون اچھا نہ سمجھے گا؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی قوم کا امام بنے اور وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں تو