Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
46 - 55
باادب بانصیب:
ترمذی شریف میں  ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے کہا جو بارگاہِ نبوی کے آداب سے کما حقہ آگاہ نہ تھا کہ وہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بارے میں  پوچھے جن کے بارے میں  قرآنِ کریم میں  آیا ہے کہ انہوں  نے اپنی نذر (مَنَّتْ) پوری کر دی۔ 
(پیارے اسلامی بھائیو! ) صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عزت وعظمت کی وجہ سے عموماً خود سوال کرنے سے بچتے اور کوشش کرتے کہ کوئی اور سوال کرے یا کوئی اعرابی آیا ہوتا تو اس کو سوال کرنے کا کہتے۔ چنانچہ،
جب اس اعرابی نے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اپنی نذر پوری کرنے والے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے متعلق استفسار کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کوئی جواب نہ دیا، اس نے دو تین بار یہی سوال کیا مگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں  کہ اسی اثنا میں ، مَیں  مسجد کے دروازے سے داخل ہوا۔ اس وقت میں  نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا، جب