پیارے اسلامی بھائیو! اس آیتِ مبارکہ میں جن لوگوں کے بارے میں یہ آیا ہے کہ انہوں نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا تو ان سے مراد سید الشہداء حضرت سیِّدُنا امیرِ حمزہ اور حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں یعنی یہ میدانِ جہاد میں ثابت قدمی سے لڑتے رہے اور آخر کار شہید ہو گئے اور شہادت کا انتظار کرنے والوں سے مراد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی اور حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں۔(الکشاف، پ۲۱، الاحزاب، تحت الایۃ:۲۳، ج۳، ص۵۳۲)
اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی تھی اور نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ صحن میں تشریف فرما تھے، اسی دوران حضرتِ طلحہ بن عُبَیْداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جوکسی ایسے زندہ شخص کودیکھنا چاہتا ہے جو اپنی منتیں پوری کر چکا ہو تو وہ طلحہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کو دیکھ لے۔‘‘ (مسندابی یعلی، مسند عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا، الحدیث:۴۸۷۷، ج۴، ص۲۷۲۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۹۵، ج۱، ص۱۱۲)