کچھ یوں فرمایا ہے:
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
نذر پوری کرنے والے:
پیارے اسلامی بھائیو! وہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجنہیں کسی وجہ سے غزوۂ بدر میں جہاد کا موقع نہ مل سکا تو انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ اب اگر انہیں سیِّدعالم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر جان قربان کرنے کی سعادت ملی تو وہ ثابت قدم رہیں گے اور لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں۔ ان عہد کرنے والوں میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی، سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ، سعید بن زید، سیِّدُنا امیر حمزہ اور سیِّدُنا مصعب بن عمیر عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوغیرہ بھی تھے۔ چنانچہ،
2نے ان کے اس عہد کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنْہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبْدِیۡلًا ﴿ۙ۲۳﴾(پ۲۱، الاحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچّا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کر چکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔