لیتے۔‘‘ (دلائل النبوۃ للبیھقی، باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصحابہ علی القتال یوم احد… الخ، ج۳، ص۲۳۶)
شجاعت کے ستر سے زائد تمغے:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غزوۂ احد میں جب ہم حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف متوجہ ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے جسمِ اطہر پر ستر سے زائد چھوٹے بڑے زخم ہیں اور ان کی انگلیاں بھی کٹ چکی ہیں۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، معرفۃ طلحۃ بن عبید اللہ، الحدیث:۳۶۹، ج۱، ص۱۱۲)
پیارے اسلامی بھائیو! میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نام پر مر مٹنے میں جو مزہ ہے وہ دنیا کی دوسری کسی بھی شے میں نہیں ، یہی وجہ ہے کہ انصاری صحابہ پروانوں کی طرح رسالت کی شمع پر اپنی جانیں وار کر رہتی دنیا تک اپنے نقوش چھوڑ گئے۔
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اعلیٰحضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا الشاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَحْمٰن نے حدائق بخشش میں اپنے جذباتِ عشق کا اظہار