صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میں انہیں روکتا ہوں۔‘‘ مگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اجازت نہ دی اور ارشاد فرمایا کہ ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔ چنانچہ، ایک انصاری نے آگے بڑھ کر کفار کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی تا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پہاڑ پر چڑھ کر محفوظ ہو جائیں مگر وہ شہید ہو گئے۔ اس طرح ایک ایک کر کے تمام انصاری صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی جانیں آقا کے نام پر قربان کر دیں اور سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کفار کو مزید آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تو سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے کفار پر ایسا حملہ کیا کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔ اور آخر کار کفارِ بد اطوار کو اپنے مذموم ارادے میں کامیابی کی کوئی راہ نظر نہ آئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
ایک روایت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود فرماتے ہیں کہ کفار کے اس حملے میں ایک شخص نے تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر وار کرنا چاہا تو میں نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا جس کی وجہ سے میرا ہاتھ شل ہو گیا اور تکلیف کی شدت سے منہ سے آواز نکل گئی تو شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے کاش! تم بسم اللہ کہتے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے تو فرشتے تمہیں اپنے پروں پر اٹھا لیتے اور لوگ تمہیں اپنی آنکھوں سے آسمان میں پرواز کرتا ہوا دیکھ