Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
41 - 55
نچھاور کرنے والا میری قوم کا فرد ہو۔ (تاریخ اسلام للامام الذھبی، ج۲، ص۱۹۰)
فرشتے پروں  پر اٹھا لیتے: 
غزوۂ احد کے موقع پر جب مسلمانوں  پر حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شہادت کی افواہ بجلی بن کر گری تو سب شکستہ دل ہو گئے۔ ایک روایت میں  ہے کہ اس عالم میں  بارہ ایسے جانثار بھی تھے جواللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے گرد سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے تھے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دشمنانِ اسلام کی شر انگیزی سے محفوظ رکھنے کے لئے جانوں  کا نذرانہ پیش کر رہے تھے، ان بارہ جانثاروں  میں  گیارہ انصاری اور ایک مہاجر تھے۔ اور یہ مہاجر حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ 
دو جہاں  کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام کے ہمراہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے کی کوشش فرما رہے تھے، جب مشرکین کو معلوم ہوا تو انہوں  نے فوراً اس طرف حملہ کر دیا۔ پس شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ دشمنانِ اسلام کو کون روکے گا؟ شہادت کی تمنا سے سرشار سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ