Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
40 - 55
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’تمہیں  اجر بھی ملے گا۔‘‘ (الاستیعاب، الرقم ۱۲۸۹ طلحۃ بن عبید اللہ التیمی، ج۲، ص۳۱۷۔ متلقطاً)
شجاعت و بہادری
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر میں  چونکہ بہادری کے جوہر نہ دکھا سکے تھے لہٰذا جب غزوۂ احد کے لئے میدان سجا تو آپ اس میں  ایسے شہسوار بن کر کودے کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے۔ چنانچہ، 
ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں  کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق کو غزوۂ احد کی یاد ستاتی تو آپ رونے لگتے اور فرماتے کہ یہ دن تو تھا ہی حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا۔ فرماتے ہیں  کہ جب میں  (افراتفری کے عالم میں ) سب سے پہلے حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف متوجہ ہوا تو میں  نے دیکھا کہ ایک شخص بڑی بہادری و جواں  مردی سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کر رہا ہے، میرے دل میں  آیا کہ خدا کرے یہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہوں  اور وہ واقعی سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے۔ اور مجھے اس وقت سب سے بڑھ کر یہی شے محبوب تھی کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حفاظت پر اس جواں  مردی سے جان