سے پہلے ہی صحابہ کرام کو لے کر روانہ ہو گئے۔ ادھر قافلہ والوں کو مسلمانوں کے حملے کے متعلق معلوم ہوا تو انہوں نے اہلِ مکہ کو مدد کے لئے پکارا اور ساحلی راستہ اختیار کر کے بڑی تیزی سے رات دن سفر کرتے ہوئے مکہ جا پہنچے۔ حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْد اللہ اور حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی روانگی کا علم نہ تھا۔ جب انہیں مدینہ منورہ پہنچ کر معلوم ہوا تو فوراً آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف روانہ ہوئے اور جباللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پہنچے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم غزوۂ بدر کے خاتمے کے بعد واپس تشریف لا رہے تھے۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم۴۷طلحۃ بن عبیداللہ، ج۳، ص۱۶۲)
علامہ ابن عبد البر قرطبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (متوفٰی ۴۶۳ ھ) نے ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ میں ایک روایت ذکر کی ہے کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’کیا انہیں غزوۂ بدر میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت سے حصہ ملے گا؟‘‘ تو سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کمال شفقت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! تمہیں ضرور حصہ ملے گا۔‘‘ اور جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اصحابِ بدر کو ملنے والے اجر و ثواب کے بارے میں عرض کی کہ میرے اجر کا کیا ہو گا؟ تو