کرنے کا عہد کر رکھا تھا۔ یہ لوگ ہر لمحہ اس بات کے منتظر رہتے کہ کب کوئی نیا حکم آئے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں سبقت لے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ حق و باطل کے درمیان ہونے والے پہلے معرکہ یعنی غزوۂ بدر میں حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شریک نہ ہو سکے کیونکہ آپ مکی مدنی مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا حکم بجا لانے میں مصروف تھے۔ پس یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے غزوہ کے ختم ہونے کے بعد نہ صرف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مالِ غنیمت میں حصہ عطا فرمایا بلکہ اجر و ثواب کی نوید بھی دی۔ چنانچہ،
مالِ دنیا کے ساتھ اجرِ آخرت بھی:
الطبقات الکبریٰ میں ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ بات معلوم تھی کہ اہلِ مکہ کا ایک قافلہ تجارت کی غرض سے ملک شام گیا ہوا ہے اور جب اس کی واپسی کا وقت قریب آیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دس دن قبل حضرت سیِّدُنا طلحہ اور حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو جاسوسی کے لئے روانہ فرمایا یہ دونوں حضرات مقام حوراء پر اس قافلے کے انتظار میں جا ٹھہرے، جب قافلہ ان کے پاس سے گزرا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو آگاہ کرنے کے لئے چل پڑے مگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ معلوم ہو چکا تھا لہٰذا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ان کے پہنچنے