Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
37 - 55
جانِثاری و وَفا شِعَاری
مدینہ شریف کی زندگی مکہ مکرمہ سے کافی مختلف تھی۔ مدینہ شریف کے برعکس مکہ مکرمہ میں  اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا جان جوکھوں  میں  ڈالنے کے مترادف تھا۔ لہٰذا مدینہ شریف پہنچ کر مسلمانوں  نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ کفارِ مکہ کو یہ بھی نہ بھایا اور وہ امن و آشتی کا درس دینے والوں  کو خاک و خون میں  نہلانے کے در پہ ہو گئے۔ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مکہ مکرمہ میں  جو صبر کا دامن تھامے رہنے کا حکم دیا تھا اب مدینہ منورہ میں  کفار بد اطوار کی شر انگیزیوں  کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ 
پیارے اسلامی بھائیو! مکہ مکرمہ کی صعوبتوں  اور مشکل گھڑیوں  میں  صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے صبر کا دامن تھامے رکھا اور کبھی ان کے پایۂ استقلال میں  فرق نہ آیا بلکہ یہ سختیاں  تو مزید ان کے ایمان کی پختگی کا باعث بنتیں۔ جیسا کہ کسی شاعر نے صحابۂ کرام کے اس فعل کو اپنانے کی ترغیب دلاتے ہوئے کیا خوب کہا ہے: 
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا شمار ان جانثار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں  ہوتا ہے جنہوں  نے اپنا تن من دھن سب کچھ راہِ خدا میں  قربان