رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ کی جانب چل پڑے۔ مکہ مکرمہزَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً پہنچ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ضروری کاموں سے فراغت حاصل کی اور پھر حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زلفوں کے اس اسیر نے امیر المؤمنین سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اہلِ خانہ کو ساتھ لیا اور مدینہ منورہزَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں جا پہنچے۔
(تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم ۲۹۸۳ طلحۃ بن عبید اللہ، ج۲۵، ص۶۶)
اَخُوَّت و بھائی چارہ
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ اور حضرت سیِّدُنا زبیر بن العوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جب اسلام قبول کیا اور اپنے بھی بیگانے ہو گئے تو حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں ان دونوں کو بھائی بھائی بنا دیا جسے مواخات کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں سرورِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ اور حضرت سیِّدُنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے درمیان مواخات قائم فرمائی۔
(اسد الغابۃ، باب الطاء طلحۃ بن عبید اللہ القرشی، ج۳، ص۸۴)