Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
35 - 55
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب الخامس فی مناقب ابی محمد طلحۃ بن عبید اللہ، الفصل السادس، ذکر انہ سلف النبی فی الدنیا و الآخرۃ، ج۲، الجزء الرابع، ص۲۵۹)
ہجرت
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جب ہجرت کا حکم ہوا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مکہ شریفزَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماًسے مدینۂ منورہ کی جانب رختِ سفر باندھا۔ اس وقت حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تجارت کی غرض سے ملک شام گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ، جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مقام خَرَّار سے مدینہ شریف روانہ ہوئے تو راستے میں  حضرت سیِّدُناطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی مل گئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ کپڑے کے تاجر تھے لہٰذا آپ نے رحمتِ عالم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں  شامی لباس پیش کیا اور عرض کی: ’’اہلِ مدینہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی آمد کے انتظار میں  آنکھیں  بچھائے بیٹھے ہیں۔‘‘ تو سرکارِ نامدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اہلِ مدینہ کو انتظار کی تکلیف سے بچانے کے لئے اپنا سفر تیز کر دیا اور حضرت سیِّدُنا طلحہ