کہ اس وقت میں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ طلحہ کے لئے (جنت) واجب ہو گئی۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب طلحۃ بن عبید اللہ، الحدیث:۳۷۵۹، ج۵، ص۴۱۲)
شہادت کی خوشخبری:
حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ جو زمین پر چلتے پھرتے کسی شہید کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہو وہ طلحہ بن عُبَیْد اللہ کو دیکھ لے۔ (المرجع السابق، الحدیث:۳۷۶۰)
خاندانِ مصطفیٰ سے تعلق:
پیارے اسلامی بھائیو! امام ابو جعفر محب طبری (متوفی ۳۱۰ھ) عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے خاندان سے ایک خاص تعلق تھا اور وہ یہ کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ام المؤمنین حضرت سیدتنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن حضرت سیدتنا حمنہ بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے شادی کی تھی اور یہ دونوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی سیدہ اُمَیْمَہ بنت عبد المطلب کی صاحبزادیاں تھیں۔