Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
33 - 55
شمار بھی ان عشرۂ مبشرہ میں  ہوتا ہے مگر یہ خوشخبری پانے کے باوجود جب بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مزید برکتیں  حاصل کرنے کا موقع ملا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اور اس پر مزید انعام یہ ملا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جنت میں  شہنشاہِ ابرار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پڑوس مل گیا۔ چنانچہ، 
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں  کہ میں  نے اپنے کانوں  سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ طلحہ اور زبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) جنت میں  میرے پڑوسی ہوں  گے۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب طلحۃ بن عبید اللہ، الحدیث:۳۷۶۲، ج۵، ص۴۱۳)
جنت واجب ہو گئی:
غزوۂ احد کے دن دو جہاں  کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دوہری زرہ پہن رکھی تھی۔ جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک چٹان پر چڑھنے کا ارادہ فرمایا تو (زرہ کی وجہ سے) اوپر چڑھنے میں  مشقت ہوئی چنانچہ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو نیچے بٹھا کر اوپر چٹان پر تشریف فرما ہو گئے۔ راوی فرماتے ہیں