Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
31 - 55
سَیِّدُ نَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فضائل
’’تاریخ مدینہ دمشق‘‘ میں  حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا تعارف کچھ یوں  بیان کیا گیا ہے: 
/… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا شمار ان دس اکابر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں  ہوتا ہے جن کو دو جہاں  کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دنیا ہی میں  جنتی ہونے کی خوشخبری دے دی تھی۔ 
/… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ان آٹھ افراد میں  سے ایک ہیں  جنہوں  نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ /… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا شمار ان پانچ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں  ہوتا ہے جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق کے ہاتھوں  مسلمان ہوئے۔ 
/… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ان چھ بزرگ ترین ہستیوں  میں  سے ایک ہیں  جو خلافت کے بارے میں  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بنائی گئی مجلس شوریٰ کے ارکان تھے۔ 
/… آپ ان خوش نصیب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں  سے ایک ہیں  جن سے مکی مَدَنی مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آخری وقت تک راضی تھے۔ (تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم ۲۹۸۳ طلحۃ بن عبید اللہ، ج۲۵، ص۵۴)