القابات سے یاد فرمایا۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۷، ج۱، ص۱۱۲)
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا امام عَبْدُ الرَّءُ وْف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی ۱۰۳۱ھ) ’’فَیْضُ الْقَدِیْر شَرْحُ جَامِعِ الصَّغِیْر ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان القابات سے نوازنے کی وجہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کثرت سے سخاوت کرنا ہے۔ مثلاً
/… ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سات لاکھ کی زمین بیچی اور ساری رقم فقرا میں تقسیم فرما دی۔
/… ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کسی رشتہ دار نے سوال کیا تو فوراً (پاس موجود ) تین سو درہم یا دینار عطا فرما دیئے۔
/… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر سال ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں دس ہزار درہم بھیجا کرتے۔
/… ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک لاکھ درہم تقسیم فرمائے اور حالت یہ تھی کہ اس دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس مناسب لباس نہ تھا جسے پہن کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ (فیض القدیر، حرف الطائ، تحت الحدیث:۵۲۷۴، ج۴، ص۳۵۷)