Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
29 - 55
عنایت پر بھروسہ کرے اور جو کچھ لوگوں  کے پاس ہے اُس سے مایو س ہو جائے۔‘‘ (ملخص از رسالۃُالقُشَیرِیّہ، باب التوکُّل، ص ۱۶۹ ) 
پیارے اسلامی بھائیو!  امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی نقل کردہ اس حکایت اور اس کے تحت بیان کئے گئے درس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  توکل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سب کچھ دوسروں  کو دے دیا اور اپنی ذات کے لئے کچھ بھی بچا کر نہ رکھا۔ 
سَیِّدُ نَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے القاب
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی انہی صفات کی وجہ سے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زبانِ حق پرست سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو اَلْفَیَّاض، اَلْجُود اور اَلْخَیْر کے لقب عطا ہوئے۔ چنانچہ، 
حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیْد اللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  خود بیان کرتے ہیں  کہ غزوۂ اُحد کے دن مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے طلحۃ الخیر، غزوۂ عشیرہ میں  طلحۃ الفیّاض اور غزوۂ حنین میں  طلحۃ الجود کے