Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
28 - 55
فرماتے ہیں :’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے ! بھوکے شیر نے اپنا شکار دوسرے جانوروں  پر ایثار کر کے بھوک برداشت کرنے کی بہترین مثال قائم کی اور پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاسے اُس نے کتنی زبردست نصیحت کی کہ’’ ایک لقمہ کا ایثار تو کُتّوں  کا کام ہے مر د کو چاہئے کہ اپنی جان قربان کر دے۔‘‘ مگر آہ! آج کے ہم جیسے بے عمل مسلمان ایک لُقمہ کا ایثار تو کیا کریں  گے جن سے بن پڑتا ہے وہ دوسروں  کے منہ سے بھی لقمہ چھین لیتے ہیں  بلکہ ایک لقمہ کی خاطِر بعض اوقات قتل و غارت گَری تک سے نہیں  چُوکتے۔ ڈھیروں  ڈھیر غِذائیں  موجود ہونے کے باوُجُود ایک ایک ’’ٹکڑے‘‘ کی خاطِر فَساد برپا کرتے پھرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: ’’صِرْف تین ذی روح ایسے ہیں  جو غذاؤں  کا ذخیرہ کرتے ہیں : (۱) (ہم جیسے گنہگار) انسان (۲) چوہا اور (۳) چِیُونٹی۔‘‘ ان کے علاوہ کوئی بھی حَیوان دوسرے وقْت کیلئے بچا کر نہیں  رکھتا، آپ نے مُرغی کا توَکُّل دیکھا ہو گا، اُس کو پانی کا پیالہ پیش کیا جاتا ہے توپی چکنے کے بعد پیالے کے کَنارے پر پاؤں  رکھ کر اِس کو اُلَٹ دیتی ہے، اسے اپنے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کامل بھروسہ ہوتا ہے کہ ابھی پلایا ہے توپیاس لگنے پر دوبارہ بھی پِلائے گا۔ اورلُطف کی بات یہ ہے کہ اُس کوپِلانے کی خدمت بھی انسان سے لی جاتی ہے۔ ہاں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں  کا توکُّل بے مِثال ہوتا ہے۔ توکُّل کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ’’ صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی