Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
27 - 55
لگے: ’’ایک بار میں اپنے اُونٹوں  کو لیکر ’’سَرخَس‘‘ سے روانہ ہوا۔ دورانِ سفر جنگل میں  ایک بُھوکے شیر نے میرا ایک اُونٹ زخمی کر کے گرا دیا اور پھر بُلند ٹیلے پر چڑھ کر ڈَکارنے لگا، اُس کی آواز سنتے ہی بَہُت سارے دَرِندے اِکٹّھے ہو گئے۔ شَیر نیچے اُترا اور اُس نے اُسی زَخمی اُونٹ کوچِیرا پھاڑا مگر خود کچھ نہ کھایا بلکہ دوبارہ ٹیلے پر جا بیٹھا، جَمْعْ شُدہ دَرِندے اُونٹ پر ٹوٹ پڑے اور کھا کر چلتے بنے، باقی ماندہ گوشْتْ کھانے کیلئے شَیر قریب آیا کہ ایک لنگڑی لُومڑی دُور سے آتی دِکھائی دی، شیر واپَس اپنی جگہ چلا گیا۔ لُومڑی حسبِ ضَرورت کھا کر جب جا چکی تب شیر نے اُس گوشت میں  سے تھوڑا سا کھایا۔ میں  دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا، اچانک شیر نے میرا رُخ کیا اور بَزَبانِ فَصِیْح بولا: ’’احمد! ایک لُقْمہ کا ایثار تو کُتّوں  کا کام ہے مَردانِ راہِ حق تو اپنی جان بھی قربان کر دیا کرتے ہیں۔‘‘ میں  نے اِس انوکھے واقِعہ سے مُتَأَثِّر ( مُتَ۔ ئَ ثْ۔ ثِرْ) ہو کر اپنے تما م گناہوں  سے توبہ کی اور دنیا سے کَنارہ کَش ہو کر اپنے اللہ عَزَّوَجَلَّسے لَو لگا لی۔‘‘ (کَشَفُ الْمَحْجُوب، مترجم، ص۳۸۳ ) 
مرغی کا توکّل
اس حکایت کے نقل کرنے کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ