نے ایک دن ایک لاکھ دِرہم راہِ خدا میں صدقہ کئے اور اس دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز کے لئے مسجد نہ جا سکے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا لباس ایسا نہ تھے جسے پہن کر مسجد میں چلے جاتے۔‘‘(موسوعۃ لابن الدنیا،کتاب اِصْلاح المال، باب فضل المال،الحدیث:۹۷، ج۷، ص۴۲۴)
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی ضرورت کے لئے بھی کچھ بچا کر نہ رکھا بلکہ سب کچھ دوسرے حاجت مندوں کو عطا کر دیا۔ چنانچہ،
بھوکا شیر
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ فیضانِ سنّت ‘‘ صَفْحَہ 806 تا 808 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے حضرتِ سیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے حوالے سے اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینے کے متعلق ایک بڑی ہی خوبصورت حکایت نقل فرمائی ہے۔ چنانچہ،
حضرتِ سیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’میں نے شیخ احمد حمّادی سَر خَسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ان کی توبہ کا سبب پوچھا ، تو کہنے