Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
25 - 55
صبح ہوتے ہی حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مہاجرین و انصار میں  سارا مال تقسیم کرنا شروع کر دیا اور اس میں  سے کچھ حصہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں  بھی بھیجا۔ اچانک آپ کی زوجۂ محترمہ حاضر ہوئیں  اور عرض کی: ’’اے ابو محمد! کیا اس مال میں  گھر والوں  کا بھی کچھ حصہ ہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا: ’’آپ کہاں  رہ گئی تھیں ، چلیں  جو باقی بچ گیا ہے وہ سب آپ لے لیں۔‘‘ فرماتی ہیں  کہ جب بقیہ مال کا حساب کیا تو وہ صرف ایک ہزار درہم ہی رہ گیا تھا۔ (سیر اعلام النبلائ، الرقم ۷ طلحہ بن عبید اللہ، ج۳، ص۱۹۔ مفہوماً)
بن مانگے دیتے: 
حضرت سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن جَابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ میں  حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی صحبت میں  رہا تومیں نے ان سے بڑھ کر کسی کونہیں  دیکھا جوبِن مانگے لوگوں میں  کثیر مال بانٹتاہو۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۴،ج۱،ص۱۱۱)
سَیِّدُ نَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا توکّل
حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ، حضرتِ  سُعْدٰی بنت عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں  کہ’’ حضرت سیِّدُناطَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ