Brailvi Books

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
24 - 55
اسی طرح امام شمس الدین محمد بن احمد ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۷۴۸ھ) سِیَرُ اَعْلَامِ النُّبَلاء میں  فرماتے ہیں  کہ ایک بار حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو رات کے وقت حَضْر مُوْت سے سات لاکھ درہم موصول ہوئے تو پریشان اور بے چین ہو گئے۔ زوجۂ محترمہ نے عرض کی: ’’آج آپ کو کیا ہوا ہے؟‘‘ فرمایا کہ مجھے یہ فکر دامنگیر ہے کہ جس بندے کی راتیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  عبادت کرتے ہوئے گزرتی ہوں ، گھر میں  اس قدر مال کی موجودگی میں  آج اس کی بارگاہ میں  کیسے حاضر ہو گا؟ تو مَدَنی سوچ کی مالک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ نے بڑے اَدَب سے عرض کی: اس میں  پریشانی کی کیا بات ہے؟ آپ اپنے نادار دوستوں  کو کیوں  بھول رہے ہیں ؟ صبح ہوتے ہی انہیں  بلا کر یہ سارا مال ان میں  تقسیم کرنے کی نیت فرما لیجئے اور اس وقت بڑے اطمینان کے ساتھ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  حاضر ہو جائیے۔ نیک بخت زوجہ کی یہ بات سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا اور آپ نے فرمایا: آپ واقعی نیک باپ کی نیک بیٹی ہیں۔ 
پیارے اسلامی بھائیو!  جان لیجئے کہ یہ نیک باپ کی نیک بیٹی کوئی اور نہیں  بلکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں  کی ٹھنڈک یعنی حضرت سیدتنا اُم کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا تھیں۔ چنانچہ،