سخاوت، زہد کی کنجی ہے:
شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ دنیا سے بے رغبت ہونے کے لئے سب سے پہلے سخاوت کو اپنانا پڑتا ہے کیونکہ جو سخی نہ ہو وہ دنیا سے بے رغبت نہیں ہو سکتا اور جو دنیا سے منہ نہ موڑے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب بھی نہیں ہو سکتا۔ (قوت القلوب، الفصل التاسع والعشرون، ج۱، ص۱۹۵)
سَیِّدُ نَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سخاوت
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایسے بندوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی بھی اس سے دل نہ لگایا اور جو کمایا اسے جمع نہ کیا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کے لئے راہِ خدا میں خرچ کر دیا۔ چنانچہ،
ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک زمین سات لاکھ درہم میں فروخت کی اور یہ مال بعض وجوہات کی وجہ سے ایک رات آپ کے پاس رہ گیا تو ساری رات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پریشان رہے یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ سارامال تقسیم فرمادیا۔ (الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار طلحۃ بن عبید اللہ، الحدیث:۷۸۳، ص۱۶۸)